صاحب فراست

قسم کلام: صفت ذاتی

معنی

١ - عقلمند، دانا، ذہین۔ "طرابلس کے گدھ یورپ کے انسانوں سے بہت زیادہ مہذب اور صاحب فراست نکلے۔"      ( ١٩١٢ء، شہید مغرب، ٢٦ )

اشتقاق

عربی زبان سے مشتق اسم 'صاحب' کے ساتھ کسرہ اضافت لگا کر عربی اسم 'فراست' لگانے سے مرکب اضافی بنا۔ اردو زبان میں بطور صفت استعمال ہوتا ہے۔ ١٩١٢ء کو "شہید مغرب" میں تحریراً مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - عقلمند، دانا، ذہین۔ "طرابلس کے گدھ یورپ کے انسانوں سے بہت زیادہ مہذب اور صاحب فراست نکلے۔"      ( ١٩١٢ء، شہید مغرب، ٢٦ )